منگل 3 فروری 2026 - 16:58
دنیا کے بگڑتے حالات اور امامِ زمانہ علیہ السّلام

حوزہ/عصرِ حاضر عالمی سطح پر اخلاقی انحطاط، سماجی ناانصافی، سیاسی استبداد اور شدید روحانی بحران سے دوچار ہے۔ زیرِ نظر مقالہ ان بگڑتے ہوئے حالات کا تجزیہ اسلامی، بالخصوص شیعہ اعتقادی تناظر میں پیش کرتا ہے اور امامِ زمانہ حضرت حجۃ بن الحسن العسکری علیہ السلام کے تصورِ ظہور کو ایک ہمہ گیر اور الٰہی حل کے طور پر واضح کرتا ہے۔

تحریر: مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی

حوزہ نیوز ایجنسی| عصرِ حاضر عالمی سطح پر اخلاقی انحطاط، سماجی ناانصافی، سیاسی استبداد اور شدید روحانی بحران سے دوچار ہے۔ زیرِ نظر مقالہ ان بگڑتے ہوئے حالات کا تجزیہ اسلامی، بالخصوص شیعہ اعتقادی تناظر میں پیش کرتا ہے اور امامِ زمانہ حضرت حجۃ بن الحسن العسکری علیہ السلام کے تصورِ ظہور کو ایک ہمہ گیر اور الٰہی حل کے طور پر واضح کرتا ہے۔

مقالے میں قرآنی آیات، احادیثِ نبوی صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور روایاتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں یہ امر مدلل انداز میں ثابت کیا گیا ہے کہ دنیا میں ظلم و فساد کا غلبہ دراصل اس وعدۂ الٰہی کی تمہید ہے جس کی تکمیل امامِ مہدیؑ کے ظہورِ کامل کے ذریعے ہوگی۔ اس تحقیق میں غیبت، انتظار اور انسانی ذمہ داری کے تصورات کو بھی عصری تناظر میں واضح کیا گیا ہے۔

عصرِ حاضر کا عالمی منظرنامہ:

موجودہ دور میں انسان اگرچہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے، تاہم فکری، اخلاقی اور روحانی اعتبار سے شدید عدمِ توازن کا شکار ہے۔ جنگ و جدال، معاشی استحصال، خاندانی نظام کی کمزوری، اخلاقی اقدار کی زوال پذیری اور روحانی خلا آج کے عالمی منظرنامے کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ قرآنِ مجید اس ہمہ گیر بگاڑ کو یوں بیان کرتا ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ ۔ (الروم، 30:41) مفسرین کے مطابق یہاں فساد سے مراد صرف طبعی یا ماحولیاتی خرابی نہیں بلکہ اخلاقی، سماجی اور اعتقادی بگاڑ بھی ہے۔ (طبری، جامع البیان ، ج 21، ص 30)

بگڑتے حالات:

اسلامی فکر کے مطابق جب ظلم، جور اور ناانصافی اجتماعی سطح پر رائج ہو جائیں تو یہ انسانی ساختہ نظاموں کی ناکامی کی واضح علامت ہوتی ہے۔ عدل، جو اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے، جب مفقود ہو جائے تو طاقت، سرمایہ اور سیاست حق و باطل کے معیارات بن جاتے ہیں۔ امام علیؑ فرماتے ہیں: ما عُمِرَتِ الدُّنْيا بمِثْلِ العدلِ (نہج البلاغہ، حکمت 437)علامہ مطہری کے مطابق عدل کے فقدان کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنی خلافتِ ارضی کی اصل ذمہ داری فراموش کر بیٹھتا ہے۔(مطہری، عدلِ الٰہی ، ص 52)

امامِ زمانہ علیہ السلام کا تصور:

شیعہ اثنا عشری عقیدے کے مطابق امامِ زمانہ علیہ السلام اللہ کی آخری حجت ہیں، جنہیں زمین پر عدلِ مطلق کے قیام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اس تصور کی بنیاد متواتر احادیث پر قائم ہے۔ رسولِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ وُلْدِي... (سنن ابی داؤد، کتاب المہدی، حدیث 4282)

غیبتِ امام اور انسانی آزمائش:

امامِ زمانہؑ کی غیبت کو شیعہ کلام میں ایک عظیم الٰہی آزمائش قرار دیا گیا ہے۔ شیخ صدوقؒ لکھتے ہیں: إنّ للغیبة حکمة لا یطلع علیها إلا الله۔ (کمال الدین و تمام النعمة، ج 1، ص 91) اسی تناظر میں امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: أفضلُ الأعمالِ انتظارُ الفرج۔ (کلینی، الکافی ، ج 2، ص 145) یہ انتظار محض ایک ذہنی کیفیت نہیں بلکہ اصلاحِ نفس، معاشرتی شعور اور عملی ذمہ داری کا نام ہے۔

دنیا میں ظلم و جور:

اسلامی اصطلاح میں ظلم ہر اس عمل کو کہا جاتا ہے جو حق کو اس کے اصل مقام سے ہٹا دے۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں: الظلم وضعُ الشيءِ في غير موضعه المختص به۔ (المفردات، مادہ: ظلم) عصرِ حاضر میں ظلم و جور نے منظم اور ادارہ جاتی شکل اختیار کر لی ہے۔ سیاسی استبداد، معاشی ناہمواری، نسلی و مذہبی امتیاز اور فکری استعمار جدید ظلم کی نمایاں صورتیں ہیں۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے: وَتِلْكَ الْقُرَىٰ أَهْلَكْنَاهُمْ لَمَّا ظَلَمُوا۔ (الکہف، 18:59) علامہ طباطبائی کے مطابق اجتماعی ظلم اقوام کے زوال کا بنیادی سبب بنتا ہے۔(المیزان، ج 13، ص 305)

ظلم و جور اور ظہورِ امامِ زمانہؑ:

اہلِ بیتؑ کی روایات میں تصریح ملتی ہے کہ امامِ مہدیؑ کا ظہور اس وقت ہوگا جب دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی: يملأُ الأرضَ قسطًا وعدلًا كما مُلئت ظلمًا وجورًا۔ (شیخ طوسی، الغیبة ، ص 284) علامہ مجلسی کے مطابق یہ مرحلہ انسانی تاریخ میں فکری و اخلاقی ناکامی کی انتہا ہوگا۔( بحار الأنوار، ج 51، ص 114)

عصرِ حاضر میں ہماری ذمہ داریاں:

انتظارِ امامِ زمانہؑ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان عدل و انصاف کو عملی طور پر فروغ دے، ظلم کے خلاف شعوری اور اخلاقی موقف اختیار کرے، دینی بصیرت اور تزکیۂ نفس کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ امام علیؑ فرماتے ہیں: كونوا دعاةً للناس بغير ألسنتكم (نہج البلاغہ، خطبہ 193)

مندرجہ بالا بحث سے یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ عصرِ حاضر کے بگڑتے ہوئے عالمی حالات محض سیاسی یا معاشی عوامل کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک عمیق اخلاقی، فکری اور روحانی بحران کی علامت ہیں۔ اسلامی، بالخصوص شیعہ اعتقادی فکر اس بحران کو تاریخ کے ایک اتفاقی مرحلے کے بجائے الٰہی سنت کے تناظر میں دیکھتی ہے، جس میں ظلم و جور کا غلبہ دراصل عدلِ الٰہی کے حتمی ظہور کی تمہید بنتا ہے۔

امامِ زمانہ حضرت حجۃ بن الحسن العسکری علیہ السلام کا تصورِ ظہور شیعہ فکر میں کسی خیالی یا محض مابعد الطبیعی امید کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر فکری و عملی نظام ہے جو انسان کو حال میں ذمہ دار بناتا ہے اور مستقبل کے لیے ایک الٰہی افق فراہم کرتا ہے۔ غیبتِ امام کا مرحلہ انسانی شعور، ایمانی استقامت اور اخلاقی پختگی کا امتحان ہے، جس میں انتظار ایک فعال، بامقصد اور اصلاحی عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ مقالہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ دنیا کے بگڑتے حالات محض اتفاقی یا طبعی عوامل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہرے اخلاقی، فکری اور اعتقادی بحران کی علامت ہیں۔ شیعہ اسلامی فکر ان حالات کا حتمی اور ہمہ گیر حل امامِ زمانہ علیہ السلام کے عالمی ظہور میں دیکھتی ہے۔ امامِ مہدیؑ کا تصور محض مستقبل کی امید نہیں بلکہ حال کی اصلاح، شعوری جدوجہد اور عدل پر مبنی طرزِ حیات کا عملی محرک ہے۔ اس طرح انتظارِ امام ایک زندہ، متحرک اور ذمہ دارانہ تصور بن کر سامنے آتا ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی تعمیر کا ضامن ہے۔

بارِ الٰہا! ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو ہمیں اس دورِ فتن میں حق کی پہچان، عدل پر ثابت قدمی اور امامِ وقتؑ کے حقیقی انتظار کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو ایمان کی بصیرت، ہمارے اعمال کو اخلاص کی قوت اور ہمارے انتظار کو شعوری، اصلاحی اور ذمہ دارانہ بنا دے۔ ہمیں اس عہدِ غیبت میں غفلت، مایوسی اور جمود سے محفوظ رکھ اور اپنے ولیِ برحق حضرت حجۃ بن الحسن العسکری علیہ السلام کے ظہور کے لیے فکری، اخلاقی اور عملی طور پر آمادہ فرما۔

اس بابرکت مناسبت جو پندرہ شعبان المعظم ، ولادتِ باسعادت امامِ عصرؑ سے منسوب ہے، تمام اہلِ ایمان کے قلوب کو نورِ یقین سے منور فرما، ان کے انتظار کو قبولیت عطا کر اور ہمیں عدلِ الٰہی کے اس وعدے کے سچے گواہوں میں شامل فرما۔

پروردگار! اس مبارک دن کی برکت سے امتِ مسلمہ کو اتحاد، شعور اور روحانی بیداری نصیب فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha